سنن النسائي حدیث نمبر: 1682
Sunan an-Nasa'i 1682
کتاب #24: کتاب: تہجد (قیام اللیل) اور دن میں نفل نمازوں کے احکام و مسائل
30: بَابُ : وَقْتِ الْوِتْرِ
باب: وتر کے وقت کا بیان۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ وَثَّابٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: " أَوْتَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَوَّلِهِ وَآخِرِهِ وَأَوْسَطِهِ وَانْتَهَى وِتْرُهُ إِلَى السَّحَرِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شروع ، اخیر اور بیچ رات سب میں وتر کی نماز پڑھی ہے ، اور آخری عمر میں آپ کا وتر سحر ( صبح ) تک پہنچ گیا تھا ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1682]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آخری عمر میں وتر رات کے آخری حصہ میں پڑھنے لگے تھے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
وقد أخرجہ: خ /الوتر 2 (996)، صحیح مسلم/المسافرین 17 (745)، سنن ابی داود/الصلاة 343 (1435)، سنن الترمذی/الصلاة 218 (الوتر 4) (457)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 121 (1185)، (تحفة الأشراف: 17653)، مسند احمد 6/46، 100، 107، 129، 204، 205، سنن الدارمی/الصلاة 211 (1628) (صحیح)