سنن النسائي حدیث نمبر: 1681
Sunan an-Nasa'i 1681
کتاب #24: کتاب: تہجد (قیام اللیل) اور دن میں نفل نمازوں کے احکام و مسائل
30: بَابُ : وَقْتِ الْوِتْرِ
باب: وتر کے وقت کا بیان۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قال: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ، قال: سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَتْ: " كَانَ يَنَامُ أَوَّلَ اللَّيْلِ ثُمَّ يَقُومُ، فَإِذَا كَانَ مِنَ السَّحَرِ أَوْتَرَ، ثُمَّ أَتَى فِرَاشَهُ فَإِذَا كَانَ لَهُ حَاجَةٌ أَلَمَّ بِأَهْلِهِ فَإِذَا سَمِعَ الْأَذَانَ وَثَبَ، فَإِنْ كَانَ جُنُبًا أَفَاضَ عَلَيْهِ مِنَ الْمَاءِ وَإِلَّا تَوَضَّأَ ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ".
اسود بن یزید کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے بارے میں پوچھا ، تو انہوں نے کہا : آپ شروع رات میں سو جاتے ، پھر اٹھتے اگر سحر ( صبح ) ہونے کو ہوتی تو وتر پڑھتے ، پھر اپنے بستر پر آتے ، اور اگر آپ کو خواہش ہوتی تو اپنی بیوی کے پاس آتے ، پھر جب اذان سنتے تو جھٹ سے اٹھ کر کھڑے ہو جاتے ، اگر جنبی ہوتے تو ( اپنے اوپر پانی ڈالتے ) یعنی غسل فرماتے ، ورنہ وضو کرتے پھر نماز کو چلے جاتے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1681]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/التھجد 15 (1146)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/المسافرین 17 (739)، سنن الترمذی/الشمائل 39 (رقم: 251)، (تحفة الأشراف: 16029)، مسند احمد 6/102، 176، 214 (صحیح)