سنن النسائي حدیث نمبر: 1645
Sunan an-Nasa'i 1645
کتاب #24: کتاب: تہجد (قیام اللیل) اور دن میں نفل نمازوں کے احکام و مسائل
17: بَابُ : الاِخْتِلاَفِ عَلَى عَائِشَةَ فِي إِحْيَاءِ اللَّيْلِ
باب: شب بیداری کے سلسلے میں عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت میں راویوں کے اختلاف کا بیان۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ , وَمُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ وَاللَّفْظُ لَهُ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ، قال: سَمِعْتُ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ , يَقُولُ: " قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى تَوَرَّمَتْ قَدَمَاهُ , فَقِيلَ لَهُ: قَدْ غَفَرَ اللَّهُ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ , قَالَ: " أَفَلَا أَكُونُ عَبْدًا شَكُورًا".
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ( نماز میں ) کھڑے رہتے یہاں تک کہ آپ کے دونوں پیر سوج جاتے ، تو آپ سے عرض کیا گیا : اللہ تعالیٰ نے آپ کے اگلے اور پچھلے گناہ بخش دیئے ہیں ( پھر آپ اتنی عبادت کیوں کرتے ہیں ) تو آپ نے فرمایا : ” کیا میں شکر گزار بندہ نہ بنوں “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1645]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/التھجد 6 (1130)، تفسیر الفتح 2 (4836)، الرقاق 20 (6471)، صحیح مسلم/المنافقین 18 (2819)، سنن الترمذی/الصلاة 188 (412)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 200 (1419)، (تحفة الأشراف: 11498)، مسند احمد 4/251، 255 (صحیح)