سنن النسائي حدیث نمبر: 1644
Sunan an-Nasa'i 1644
کتاب #24: کتاب: تہجد (قیام اللیل) اور دن میں نفل نمازوں کے احکام و مسائل
17: بَابُ : الاِخْتِلاَفِ عَلَى عَائِشَةَ فِي إِحْيَاءِ اللَّيْلِ
باب: شب بیداری کے سلسلے میں عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت میں راویوں کے اختلاف کا بیان۔
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى، عَنْ عَبْدِ الْوَارِثِ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَرَأَى حَبْلًا مَمْدُودًا بَيْنَ سَارِيَتَيْنِ , فَقَالَ: " مَا هَذَا الْحَبْلُ؟" , فَقَالُوا: لِزَيْنَبَ تُصَلِّي , فَإِذَا فَتَرَتْ تَعَلَّقَتْ بِهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " حُلُّوهُ لِيُصَلِّ أَحَدُكُمْ نَشَاطَهُ فَإِذَا فَتَرَ فَلْيَقْعُدْ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں داخل ہوئے ، آپ نے دو ستونوں کے درمیان میں ایک لمبی رسی دیکھی ، تو آپ نے پوچھا : ” یہ رسی کیسی ہے ؟ “ تو لوگوں نے عرض کیا : زینب ( زینب بنت جحش ) کی ہے وہ نماز پڑھتی ہیں ، جب کھڑے کھڑے تھک جاتی ہیں تو اس سے لٹک جاتی ہیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کھولو اسے ، تم میں سے کوئی بھی ہو جب تک اس کا دل لگے نماز پڑھے ، اور جب تھک جائے تو بیٹھ جائے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1644]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/التھجد 18 (1150)، صحیح مسلم/المسافرین 31 (784)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة 308 (1312)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 184 (1371)، (تحفة الأشراف: 1033)، مسند احمد 3/101، 184، 204، 256 (صحیح)