سنن النسائي حدیث نمبر: 1643
Sunan an-Nasa'i 1643
کتاب #24: کتاب: تہجد (قیام اللیل) اور دن میں نفل نمازوں کے احکام و مسائل
17: بَابُ : الاِخْتِلاَفِ عَلَى عَائِشَةَ فِي إِحْيَاءِ اللَّيْلِ
باب: شب بیداری کے سلسلے میں عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت میں راویوں کے اختلاف کا بیان۔
أَخْبَرَنَا شُعَيْبُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ هِشَامٍ، قال: أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا وَعِنْدَهَا امْرَأَةٌ , فَقَالَ: مَنْ هَذِهِ؟ قَالَتْ: فُلَانَةُ، لَا تَنَامُ فَذَكَرَتْ مِنْ صَلَاتِهَا , فَقَالَ: " مَهْ عَلَيْكُمْ بِمَا تُطِيقُونَ , فَوَاللَّهِ لَا يَمَلُّ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ حَتَّى تَمَلُّوا، وَلَكِنَّ أَحَبَّ الدِّينِ إِلَيْهِ مَا دَاوَمَ عَلَيْهِ صَاحِبُهُ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس آئے ، اور ان کے پاس ایک عورت ( بیٹھی ہوئی ) تھی تو آپ نے پوچھا : ” یہ کون ہے ؟ “ انہوں نے کہا : فلاں ( عورت ) ہے جو سوتی نہیں ہے ، پھر انہوں نے اس کی نماز کا ذکر کیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” چپ رہو ، تم اتنا ہی کرو جتنے کی تمہیں طاقت ہو ، قسم اللہ کی ، اللہ نہیں تھکتا ہے یہاں تک کہ تم تھک جاؤ ، پسندیدہ دین ( عمل ) اس کے نزدیک وہی ہے جس پر آدمی مداومت کرے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1643]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الإیمان 32 (43)، التھجد 18 (1151)، صحیح مسلم/المسافرین 32 (785)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الزھد 28 (4238)، (تحفة الأشراف: 17307)، مسند احمد 6/51، ویأتی عند المؤلف فی الإیمان 29 برقم: 5038 (صحیح)