سنن النسائي حدیث نمبر: 1303
Sunan an-Nasa'i 1303
کتاب #17: کتاب: نماز میں سہو کے احکام و مسائل
59: بَابُ : نَوْعٌ آخَرُ مِنَ الدُّعَاءِ
باب: دعا کی ایک اور قسم کا بیان۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ عبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا , أَنَّهُ قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: عَلِّمْنِي دُعَاءً أَدْعُو بِهِ فِي صَلَاتِي , قَالَ: " قُلِ: اللَّهُمَّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي ظُلْمًا كَثِيرًا , وَلَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ , فَاغْفِرْ لِي مَغْفِرَةً مِنْ عِنْدِكَ , وَارْحَمْنِي إِنَّكَ أَنْتَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ".
ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا : آپ مجھے کوئی ایسی دعا سکھا دیجئیے جس کے ذریعہ میں اپنی نماز میں دعا مانگا کروں ، تو آپ نے فرمایا : کہو : «اللہم إني ظلمت نفسي ظلما كثيرا ولا يغفر الذنوب إلا أنت فاغفر لي مغفرة من عندك وارحمني إنك أنت الغفور الرحيم» ” اے اللہ ! بیشک میں نے اپنے اوپر بہت ظلم کیا ہے ، اور سوائے تیرے گناہوں کو کوئی بخش نہیں سکتا ، لہٰذا تو اپنی خاص مغفرت سے مجھے بخش دے ، اور مجھ پر رحم کر ، یقیناً تو غفور و رحیم یعنی بہت بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1303]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الأذان 149 (834)، الدعوات 17 (6326)، التوحید 9 (7388)، صحیح مسلم/الدعاء 13 (2705)، سنن الترمذی/الدعوات 97 (3531)، سنن ابن ماجہ/الدعاء 2 (3835)، مسند احمد 1/3، 7، (تحفة الأشراف: 6606) (صحیح)