سنن النسائي حدیث نمبر: 1301
Sunan an-Nasa'i 1301
کتاب #17: کتاب: نماز میں سہو کے احکام و مسائل
58: بَابُ : الدُّعَاءِ بَعْدَ الذِّكْرِ
باب: ذکر الٰہی کے بعد کی دعا کا بیان۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ خَلِيفَةَ، عَنْ حَفْصِ بْنِ أَخِي أَنَسٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا يَعْنِي وَرَجُلٌ قَائِمٌ يُصَلِّي , فَلَمَّا رَكَعَ وَسَجَدَ وَتَشَهَّدَ دَعَا , فَقَالَ فِي دُعَائِهِ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِأَنَّ لَكَ الْحَمْدَ , لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ الْمَنَّانُ بَدِيعُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ , يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ , يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ إِنِّي أَسْأَلُكَ , فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَصْحَابِهِ: " تَدْرُونَ بِمَا دَعَا" , قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ , قَالَ: " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ , لَقَدْ دَعَا اللَّهَ بِاسْمِهِ الْعَظِيمِ الَّذِي إِذَا دُعِيَ بِهِ أَجَابَ , وَإِذَا سُئِلَ بِهِ أَعْطَى".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ( مسجد میں ) بیٹھا ہوا تھا ، اور ایک آدمی کھڑا نماز پڑھ رہا تھا ، جب اس نے رکوع اور سجدہ کر لیا ، اور تشہد سے فارغ ہو گیا ، تو اس نے دعا کی ، اور اپنی دعا میں اس نے کہا : «اللہم إني أسألك بأن لك الحمد لا إله إلا أنت المنان بديع السموات والأرض يا ذا الجلال والإكرام يا حى يا قيوم إني أسألك» ” اے اللہ ! میں تجھ سے مانگتا ہوں اس لیے کہ تیرے ہی لیے تمام تعریفیں ہیں ، نہیں ہے کوئی معبود برحق سوائے تیرے ، تو بہت احسان کرنے والا ہے ، تو ہی آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے اور وجود میں لانے والا ہے ، اے عظمت و جلال اور احسان والے ، ہمیشہ زندہ و باقی رہنے والے ! ، میں تجھی سے مانگتا ہوں ۔ یہ سنا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ سے کہا : ” تم جانتے ہو اس نے کن لفظوں سے دعا کی ہے ؟ “ انہوں نے کہا : اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ، اس نے تو اللہ سے اس کے اسم اعظم کے ذریعہ دعا کی ہے جس کے ذریعہ دعا کی جاتی ہے تو وہ قبول کرتا ہے ، اور جب اس کے ذریعہ مانگا جاتا ہے تو وہ دیتا ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1301]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الصلاة 358 (1495)، وقد أخرجہ: (تحفة الأشراف: 551)، مسند احمد 3/120، 158، 245 (صحیح)