سنن النسائي حدیث نمبر: 1302
Sunan an-Nasa'i 1302
کتاب #17: کتاب: نماز میں سہو کے احکام و مسائل
58: بَابُ : الدُّعَاءِ بَعْدَ الذِّكْرِ
باب: ذکر الٰہی کے بعد کی دعا کا بیان۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ يَزِيدَ أَبُو بُرَيْدٍ الْبَصْرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الصَّمَدِ بْنِ عَبْدِ الْوَارِثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي حَنْظَلَةُ بْنُ عَلِيٍّ , أَنَّ مِحْجَنَ بْنَ الْأَدْرَعِ حَدَّثَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ الْمَسْجِدَ , إِذَا رَجُلٌ قَدْ قَضَى صَلَاتَهُ وَهُوَ يَتَشَهَّدُ , فَقَالَ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ يَا أَللَّهُ بِأَنَّكَ الْوَاحِدُ الْأَحَدُ الصَّمَدُ , الَّذِي لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ , أَنْ تَغْفِرَ لِي ذُنُوبِي إِنَّكَ أَنْتَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قَدْ غُفِرَ لَهُ ثَلَاثًا".
محجن بن ادرع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں گئے ، تو دیکھا کہ ایک آدمی اپنی نماز پوری کر چکا ہے ، اور تشہد میں ہے اور کہہ رہا ہے : «اللہم إني أسألك يا اللہ بأنك الواحد الأحد الصمد الذي لم يلد ولم يولد ولم يكن له كفوا أحد أن تغفر لي ذنوبي إنك أنت الغفور الرحيم» ” اے اللہ ! میں تجھ سے مانگتا ہوں ، اے اللہ تجھی سے ، اس لیے کہ تو ہی ایک ایسا تن تنہا بے نیاز ہے جس نے نہ تو کسی کو جنا ہے ، اور نہ ہی وہ جنا گیا ہے ، اور نہ ہی اس کا کوئی ہمسر ہے ، لہٰذا تو میرے گناہوں کو بخش دے ، تو ہی غفور و رحیم یعنی بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے “ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار فرمایا : ” اس کے گناہ بخش دیے گئے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1302]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الصلاة 184 (985)، مسند احمد 4/338، (تحفة الأشراف: 11218) (صحیح)