سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 513
Sunan Ibn Majah 513
کتاب #2: کتاب: طہارت اور اس کے احکام و مسائل
74: بَابُ : لاَ وُضُوءَ إِلاَّ مِنْ حَدَثٍ
باب: حدث کے بغیر وضو کے واجب نہ ہونے کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، قَالَ: أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، وَعَبَّادُ بْنُ تَمِيمٍ ، عَنْ عَمِّهِ ، قَالَ: " شُكِيَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرَّجُلُ يَجِدُ الشَّيْءَ فِي الصَّلَاةِ، فَقَالَ: " لَا حَتَّى يَجِدَ رِيحًا، أَوْ يَسْمَعَ صَوْتًا".
عباد بن تمیم کے چچا عبداللہ بن زید بن عاصم انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس شخص کا معاملہ لے جایا گیا جس نے نماز میں ( حدث کا ) شبہ محسوس کیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” نہیں ، شک و شبہ سے وضو نہیں ٹوٹتا جب تک کہ وہ گوز کی آواز نہ سن لے ، یا بو نہ محسوس کرے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 513]
💡 وضاحت:
۱؎: بعض لوگ شبہات کا شکار ہو جاتے ہیں، اور اکثر شیطان ان کو نماز میں وہم دلاتا رہتا ہے، یہ حکم ان کے لئے ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
بخاري ومسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الوضوء 4 (137)، 34 (177)، البیوع 5 (2056)، صحیح مسلم/الحیض 26 (361)، سنن ابی داود/الطہارة 68 (176)، سنن النسائی/الطہارة 115 (160)، (تحفة الأشراف: 5296)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/39، 40) (صحیح)