سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 514
Sunan Ibn Majah 514
کتاب #2: کتاب: طہارت اور اس کے احکام و مسائل
74: بَابُ : لاَ وُضُوءَ إِلاَّ مِنْ حَدَثٍ
باب: حدث کے بغیر وضو کے واجب نہ ہونے کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا الْمُحَارِبِيُّ ، عَنْ مَعْمَرِ بْنِ رَاشِدٍ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، أَنْبَأَنَا سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: " سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ التَّشَبُّهِ فِي الصَّلَاةِ؟ فَقَالَ: " لَا يَنْصَرِفْ حَتَّى يَسْمَعَ صَوْتًا، أَوْ يَجِدَ رِيحًا".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز میں حدث کا شبہ ہو جانے کے متعلق پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تک کہ آواز نہ سن لے یا بو نہ محسوس کر لے نماز نہ توڑے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 514]
💡 وضاحت:
۱؎: مطلب یہ ہے کہ جب ہوا کے خارج ہونے کا یقین ہو جائے، تب نماز توڑے، اور جا کر وضو کرے محض شک اور وہم کی بناء پر نہیں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح لغيره
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4048، ومصباح الزجاجة: 213)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/96) (صحیح) (اس سند میں ضعف ہے، اس لئے کہ محاربی کا معمر سے سماع ثابت نہیں ہے، نیز وہ مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے، زہری کے حفاظ تلامذہ نے اس حدیث کو زہر ی عن ابن المسیب عن عبد اللہ بن زید بن عاصم رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے، جو صحیحین اور سنن ابی داود، و نسائی میں ہے، ملاحظہ ہو: (513) اس سابقہ حدیث سے تقویت پاکر اصل حدیث صحیح ہے، نیز ابوسعید الخدری رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث دوسرے طریق سے مسند احمد میں بھی ہے، (3/37)