سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 511
Sunan Ibn Majah 511
کتاب #2: کتاب: طہارت اور اس کے احکام و مسائل
72: بَابُ : الْوُضُوءِ لِكُلِّ صَلاَةٍ وَالصَّلَوَاتِ كُلِّهَا بِوُضُوءٍ وَاحِدٍ
باب: ہر نماز کے لیے وضو کرنے اور ایک وضو سے ساری نمازیں پڑھنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ تَوْبَةَ ، حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُبَشِّرٍ ، قَالَ: رَأَيْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ " يُصَلِّي الصَّلَوَاتِ بِوُضُوءٍ وَاحِدٍ، فَقُلْتُ: مَا هَذَا؟ فَقَالَ" رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ هَذَا، فَأَنَا أَصْنَعُ كَمَا صَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
فضل بن مبشر کہتے ہیں کہ میں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کو ایک ہی وضو سے کئی نماز پڑھتے دیکھا ، تو میں نے کہا : یہ کیا ہے ؟ عرض کیا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا کرتے دیکھا ہے ، چنانچہ میں بھی ویسے ہی کرتا ہوں جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا ہے ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 511]
💡 وضاحت:
۱؎: اگر وضو باقی ہے ٹوٹا نہیں ہے، تو ایک وضو سے کئی نمازیں پڑھی جا سکتی ہیں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح لغيره
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ قال البوصيري: ”ھذا إسناد ضعيف،الفضل بن مبشر ضعفه الجمھور“ ¤ وقال الحافظ: فيه لين (تقريب: 5416) ¤ والحديث السابق (الأصل: 510) يغني عنه ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 396
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 2571، ومصباح الزجاجة: 211) (صحیح) (اس حدیث کی سند میں الفضل بن مبشر ضعیف ہیں، لیکن سابقہ شواہد کی بناء پر یہ حدیث صحیح ہے)