سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 4339
Sunan Ibn Majah 4339
کتاب #38: کتاب: زہد و ورع اور تقوی کے فضائل و مسائل
39: بَابُ : صِفَةِ الْجَنَّةِ
باب: جنت کے احوال و صفات کا بیان۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا جَرِيرٌ , عَنْ مَنْصُورٍ , عَنْ إِبْرَاهِيمَ , عَنْ عَبِيدَةَ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنِّي لَأَعْلَمُ آخِرَ أَهْلِ النَّارِ خُرُوجًا مِنْهَا , وَآخِرَ أَهْلِ الْجَنَّةِ دُخُولًا الْجَنَّةَ , رَجُلٌ يَخْرُجُ مِنَ النَّارِ حَبْوًا , فَيُقَالُ لَهُ: اذْهَبْ فَادْخُلِ الْجَنَّةَ , فَيَأْتِيهَا فَيُخَيَّلُ إِلَيْهِ أَنَّهَا مَلْأَى , فَيَرْجِعُ , فَيَقُولُ: يَا رَبِّ , وَجَدْتُهَا مَلْأَى , فَيَقُولُ اللَّهُ: اذْهَبْ فَادْخُلِ الْجَنَّةَ , فَيَأْتِيهَا , فَيُخَيَّلُ إِلَيْهِ أَنَّهَا مَلْأَى , فَيَرْجِعُ , فَيَقُولُ: يَا رَبِّ , وَجَدْتُهَا مَلْأَى , فَيَقُولُ اللَّهُ سُبْحَانَهُ: اذْهَبْ فَادْخُلِ الْجَنَّةَ , فَيَأْتِيهَا فَيُخَيَّلُ إِلَيْهِ أَنَّهَا مَلْأَى , فَيَرْجِعُ , فَيَقُولُ: يَا رَبِّ إِنَّهَا مَلْأَى , فَيَقُولُ اللَّهُ: اذْهَبْ فَادْخُلِ الْجَنَّةَ , فَإِنَّ لَكَ مِثْلَ الدُّنْيَا وَعَشَرَةَ أَمْثَالِهَا , أَوْ إِنَّ لَكَ مِثْلَ عَشَرَةِ أَمْثَالِ الدُّنْيَا , فَيَقُولُ: أَتَسْخَرُ بِي أَوْ أَتَضْحَكُ بِي وَأَنْتَ الْمَلِكُ؟" , قَالَ: فَلَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَحِكَ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ , فَكَانَ يُقَالُ: هَذَا أَدْنَى أَهْلِ الْجَنَّةِ مَنْزِلًا.
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں جانتا ہوں اس کو جو سب سے آخر میں جہنم سے نکلے گا ، اور جنت میں سب سے آخر میں داخل ہو گا ، وہ شخص جہنم سے گھسٹتا ہوا نکلے گا ، اس سے کہا جائے گا : جاؤ اور جنت میں داخل ہو جاؤ وہ جنت تک آئے گا تو اس کو لگے گا کہ وہ بھری ہوئی ہے ، وہ لوٹ جائے گا اس پر کہے گا : اے میرے رب ! میں نے اس کو بھری ہوئی پایا ، اللہ فرمائے گا : جاؤ اور جنت میں داخل ہو جاؤ ، وہ جنت تک آئے گا تو اس کو بھری ہوئی سمجھ کر پھر واپس چلا جائے گا ، لوٹ کر کہے گا : اے میرے رب ! وہ تو بھری ہوئی ہے ، اللہ تعالیٰ فرمائے گا : جاؤ اور جنت میں داخل ہو جاؤ ، تمہارے لیے دنیا اور اس کے مثل دس دنیاؤں کی جگہ ( جنت میں ) ہے ، وہ کہے گا : کیا تو مجھ سے مذاق کر رہا ہے حالانکہ تو بادشاہ ہے ؟ ، یہ حدیث بیان کرتے ہوئے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ اتنا ہنسے کہ آپ کے اخیر کے دانت ظاہر ہو گئے ، ( یعنی کھل کھلا کر ہنس پڑے ) کہا جاتا ہے کہ یہ شخص جنتیوں میں سب سے کم درجے والا ہو گا ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 4339]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الرقاق 51 (6571)، التوحید 36 (7511)، صحیح مسلم/الإیمان 83 (186)، سنن الترمذی/صفة جھنم 10 (2595)، (تحفة الأشراف: 9405)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/170، 376، 378، 460) (صحیح)