سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 4332
Sunan Ibn Majah 4332
کتاب #38: کتاب: زہد و ورع اور تقوی کے فضائل و مسائل
39: بَابُ : صِفَةِ الْجَنَّةِ
باب: جنت کے احوال و صفات کا بیان۔
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عُثْمَانَ الدِّمَشْقِيُّ , حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُهَاجِرٍ الْأَنْصَارِيُّ , حَدَّثَنِي الضَّحَّاكُ الْمَعَافِرِيُّ , عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى , عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ , قَالَ: حَدَّثَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ لِأَصْحَابِهِ: " أَلَا مُشَمِّرٌ لِلْجَنَّةِ , فَإِنَّ الْجَنَّةَ لَا خَطَرَ لَهَا , هِيَ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ نُورٌ يَتَلَأْلَأُ , وَرَيْحَانَةٌ تَهْتَزُّ , وَقَصْرٌ مَشِيدٌ , وَنَهَرٌ مُطَّرِدٌ , وَفَاكِهَةٌ كَثِيرَةٌ , نَضِيجَةٌ وَزَوْجَةٌ , حَسْنَاءُ جَمِيلَةٌ , وَحُلَلٌ كَثِيرَةٌ فِي مَقَامٍ أَبَدًا , فِي حَبْرَةٍ وَنَضْرَةٍ فِي دُارٍ عَالِيَةٍ سَلِيمَةٍ بَهِيَّةٍ" , قَالُوا: نَحْنُ الْمُشَمِّرُونَ لَهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ , قَالَ: " قُولُوا: إِنْ شَاءَ اللَّهُ" , ثُمَّ ذَكَرَ الْجِهَادَ وَحَضَّ عَلَيْهِ.
اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن اپنے صحابہ سے فرمایا : ” کیا کوئی جنت کے لیے کمر نہیں باندھتا ؟ اس لیے کہ جنت جیسی کوئی اور چیز نہیں ہے ، رب کعبہ کی قسم ، وہ چمکتا ہوا نور ہے ، خوشبودار پھول ہے جو جھوم رہا ہے ، مضبوط محل ہے ، بہتی نہر ہے ، وہاں بہت سارے پکے ہوئے میوے اور تیار پھل ہیں ، خوبصورت اور خوش اخلاق بیویاں ہیں ، کپڑوں کے بہت سارے جوڑے ہیں ، ہمیشگی کا مقام ہے ، جہاں سدا بہار اور تازگی ہے ، اونچا ، محفوظ اور روشن محل ہے ۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا : اے اللہ کے رسول ! ہم اس کے لیے کمر باندھتے ہیں ، تو آپ نے فرمایا : ” کہو ، ان شاءاللہ ، پھر جہاد کا ذکر کیا ، اور اس کی رغبت دلائی “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 4332]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ الضحاك المعافري وثقه ابن حبان وحده وقال الذهبي: لا يعرف (ميزان الإعتدال:327/2) وللحديث شاهد ضعيف جدًا عند الخطيب (252/4)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 118، ومصباح الزجاجة: 1551) (ضعیف) (سند میں ضحاک معافری لین الحدیث یعنی ضعیف ہیں)