سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 4328
Sunan Ibn Majah 4328
کتاب #38: کتاب: زہد و ورع اور تقوی کے فضائل و مسائل
39: بَابُ : صِفَةِ الْجَنَّةِ
باب: جنت کے احوال و صفات کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ , عَنْ الْأَعْمَشِ , عَنْ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ: قَال رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: أَعْدَدْتُ لِعِبَادِيَ الصَّالِحِينَ مَا لَا عَيْنٌ رَأَتْ , وَلَا أُذُنٌ سَمِعَتْ , وَلَا خَطَرَ عَلَى قَلْبِ بَشَرٍ" , قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: وَمِنْ بَلْهَ مَا قَدْ أَطْلَعَكُمُ اللَّهُ عَلَيْهِ , اقْرَءُوا إِنْ شِئْتُمْ: فَلا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَا أُخْفِيَ لَهُمْ مِنْ قُرَّةِ أَعْيُنٍ جَزَاءً بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ سورة السجدة آية 17 , قَالَ وَكَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ يَقْرَؤُهَا مِنْ قُرَّاتِ أَعْيُنٍ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ عزوجل فرماتا ہے : میں نے اپنے نیک بندوں کے لیے وہ نعمت تیار کر رکھی ہے جسے نہ کسی آنکھ نے دیکھا ، نہ کسی کان نے سنا ، اور نہ کسی آدمی کے دل میں اس کا خیال آیا ۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ان نعمتوں کے علاوہ جو تم کو اللہ تعالیٰ نے بتائی ہیں اور بھی نعمتیں ہیں ، اگر تم چاہتے ہو تو یہ آیت پڑھو : «فلا تعلم نفس ما أخفي لهم من قرة أعين جزاء بما كانوا يعملون» ” کوئی نفس نہیں جانتا ہے کہ اس کے لیے کیا آنکھوں کی ٹھنڈک چھپا کر رکھی گئی ہے ، یہ بدلہ ہے اس کے نیک اعمال کا “ ( سورۃ السجدۃ : ۱۷ ) ۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اس کو «قرآت أعين» ( یعنی جمع کا صیغہ ) پڑھتے تھے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 4328]
قال الشيخ الألباني:
صحيح ق دون قوله قال وكان أبو هريرة
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/بدء الخلق 8 (3244)، صحیح مسلم/الجنة (2824)، (تحفة الأشراف: 12509)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/تفسیر القرآن 33 (3197) (صحیح)