سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 4281
Sunan Ibn Majah 4281
کتاب #38: کتاب: زہد و ورع اور تقوی کے فضائل و مسائل
33: بَابُ : ذِكْرِ الْبَعْثِ
باب: حشر کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ , عَنْ الْأَعْمَشِ , عَنْ أَبِي سُفْيَانَ , عَنْ جَابِرٍ , عَنْ أُمِّ مُبَشِّرٍ , عَنْ حَفْصَةَ , قَالَتْ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنِّي لَأَرْجُو أَلَّا يَدْخُلَ النَّارَ أَحَدٌ إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى مِمَّنْ شَهِدَ بَدْرًا , وَالْحُدَيْبِيَةَ" , قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَلَيْسَ قَدْ قَالَ اللَّهُ: وَإِنْ مِنْكُمْ إِلا وَارِدُهَا كَانَ عَلَى رَبِّكَ حَتْمًا مَقْضِيًّا سورة مريم آية 71 , قَالَ: " أَلَمْ تَسْمَعِيهِ , يَقُولُ: ثُمَّ نُنَجِّي الَّذِينَ اتَّقَوْا وَنَذَرُ الظَّالِمِينَ فِيهَا جِثِيًّا سورة مريم آية 72".
ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مجھے امید ہے جو لوگ بدر و حدیبیہ کی جنگوں میں شریک تھے ، ان میں سے کوئی جہنم میں نہ جائے گا ، «إ ن شاء اللہ» اگر اللہ نے چاہا ، میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کیا اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد نہیں ہے : «وإن منكم إلا واردها كان على ربك حتما مقضيا» ” تم میں سے ہر ایک کو اس میں وارد ہونا ہے ، یہ تیرے رب کا حتمی فیصلہ ہے “ ( سورة مريم : 71 ) ؟ ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا تم نے اللہ تعالیٰ کا یہ قول نہیں سنا : «ثم ننجي الذين اتقوا ونذر الظالمين فيها جثيا» ” پھر ہم پرہیزگاروں کو نجات دیں گے اور ظالموں کو اسی میں اوندھے منہ چھوڑ دیں گے “ ( سورة مريم : 72 “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 4281]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 15820، ومصباح الزجاجة: 1533)، وقد أخرجہ: مسند احمد6/285) (صحیح) (سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 2405)