سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 423
Sunan Ibn Majah 423
کتاب #2: کتاب: طہارت اور اس کے احکام و مسائل
48: بَابُ : مَا جَاءَ فِي الْقَصْدِ فِي الْوَضُوءِ وَكَرَاهِيَةِ التَّعَدِّي فِيهِ
باب: وضو میں میانہ روی کی فضیلت اور حد سے تجاوز کرنے کی کراہت کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاق الشَّافِعِيُّ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْعَبَّاسِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو سَمِعَ كُرَيْبًا ، يَقُولُ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ: بِتُّ عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ، " فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَوَضَّأَ مِنْ شَنَّةٍ وُضُوءًا يُقَلِّلُهُ، فَقُمْتُ فَصَنَعْتُ كَمَا صَنَعَ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے اپنی خالہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے پاس رات بسر کی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات میں بیدار ہوئے ، اور آپ نے ایک پرانے مشکیزے سے بہت ہی ہلکا وضو کیا ، میں بھی اٹھا اور میں نے بھی ویسے ہی کیا جیسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 423]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی بہت جلد اور تھوڑے پانی سے وضو کیا، اور یہ وقت تہجد کا تھا۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
بخاري ومسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الوضوء 5 (138)، والأذان 161 (726)، صحیح مسلم/المسافرین 26 (763)، سنن الترمذی/الصلاة 57 (232)، سنن النسائی/ الغسل 29 (443)، (تحفة الأشراف: 6356)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/220، 244، 283، 330) (صحیح)