سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 421
Sunan Ibn Majah 421
کتاب #2: کتاب: طہارت اور اس کے احکام و مسائل
48: بَابُ : مَا جَاءَ فِي الْقَصْدِ فِي الْوَضُوءِ وَكَرَاهِيَةِ التَّعَدِّي فِيهِ
باب: وضو میں میانہ روی کی فضیلت اور حد سے تجاوز کرنے کی کراہت کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا خَارِجَةُ بْنُ مُصْعَبٍ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عُتَيِّ بْنِ ضَمْرَةَ السَّعْدِيِّ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ لِلْوُضُوءِ شَيْطَانًا يُقَالُ لَهُ: وَلَهَانُ، فَاتَّقُوا وَسْوَاسَ الْمَاءِ".
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” وضو میں وسوسہ ڈالنے کے کام کے لیے ایک شیطان ہے جس کو ولہان کہا جاتا ہے ، لہٰذا تم پانی کے وسوسوں سے بچو “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 421]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف جدا
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف جدًا ¤ ترمذي (57) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 393
تخریج دارالدعوہ:
سنن الترمذی/الطہارة 43 (57)، (تحفة الأشراف: 66)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/126) (ضعیف جدًا) (سند میں خارجہ بن مصعب متروک راوی ہے، اور کذابین سے تدلیس کرتا ہے)