سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 422
Sunan Ibn Majah 422
کتاب #2: کتاب: طہارت اور اس کے احکام و مسائل
48: بَابُ : مَا جَاءَ فِي الْقَصْدِ فِي الْوَضُوءِ وَكَرَاهِيَةِ التَّعَدِّي فِيهِ
باب: وضو میں میانہ روی کی فضیلت اور حد سے تجاوز کرنے کی کراہت کا بیان۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا خَالِي يَعْلَى ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلَهُ عَنِ الْوُضُوءِ؟ فَأَرَاهُ ثَلَاثًا ثَلَاثًا، ثُمَّ قَالَ: " هَذَا الْوُضُوءُ فَمَنْ زَادَ عَلَى هَذَا فَقَدْ أَسَاءَ، أَوْ تَعَدَّى، أَوْ ظَلَمَ".
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک دیہاتی آیا ، اور آپ سے وضو کے سلسلے میں پوچھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین تین بار وضو کر کے اسے دکھایا ، پھر فرمایا : ” یہی ( مکمل ) وضو ہے ، لہٰذا جس نے اس سے زیادہ کیا اس نے برا کیا ، یا حد سے تجاوز کیا ، یا ظلم کیا “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 422]
قال الشيخ الألباني:
حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الطہارة 51 (135)، سنن النسائی/الطہارة 104 (140)، (تحفة الأشراف: 8809)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/180) (حسن صحیح)