سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 4200
Sunan Ibn Majah 4200
کتاب #38: کتاب: زہد و ورع اور تقوی کے فضائل و مسائل
20: بَابُ : التَّوَقِّي عَلَى الْعَمَلِ
باب: عمل قبول نہ ہونے کا ڈر رکھنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ الْحِمْصِيُّ , حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ , عَنْ وَرْقَاءَ بْنِ عُمَرَ , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ ذَكْوَانَ أَبُو الزِّنَادِ , عَنْ الْأَعْرَجِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا صَلَّى فِي الْعَلَانِيَةِ فَأَحْسَنَ , وَصَلَّى فِي السِّرِّ فَأَحْسَنَ , قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: هَذَا عَبْدِي حَقًّا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بیشک جب بندہ سب کے سامنے نماز پڑھتا ہے تو اچھی طرح پڑھتا ہے ، اور تنہائی میں نماز پڑھتا ہے تو بھی اچھی طرح پڑھتا ہے ، ( ایسے ہی بندے کے متعلق ) اللہ عزوجل فرماتا ہے : یہ حقیقت میں میرا بندہ ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 4200]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ بقية عنعن (تقدم:551) وقال أبو حاتم: ”هذا حديث منكر، يشبه أن يكون من حديث عباد بن كثير“ (علل الحديث 189/1،ح 541)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 13936، ومصباح الزجاجة: 1495)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/537) (ضعیف) (سند میں بقیہ مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے)