سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 4198
Sunan Ibn Majah 4198
کتاب #38: کتاب: زہد و ورع اور تقوی کے فضائل و مسائل
20: بَابُ : التَّوَقِّي عَلَى الْعَمَلِ
باب: عمل قبول نہ ہونے کا ڈر رکھنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , عَنْ مَالِكِ بْنِ مِغْوَلٍ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعِيدٍ الْهَمْدَانِيِّ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , وَالَّذِينَ يُؤْتُونَ مَا آتَوْا وَقُلُوبُهُمْ وَجِلَةٌ سورة المؤمنون آية 60 , أَهُوَ يُضَافُ الرَّجُلُ الَّذِي يَزْنِي وَيَسْرِقُ وَيَشْرَبُ الْخَمْرَ , قَالَ: " لَا , يَا بِنْتَ أَبِي بَكْرٍ , أَوْ يَا بِنْتَ الصِّدِّيقِ , وَلَكِنَّهُ الرَّجُلُ يَصُومُ وَيَتَصَدَّقُ وَيُصَلِّي , وَهُوَ يَخَافُ أَنْ لَا يُتَقَبَّلَ مِنْهُ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے کہا : اللہ کے رسول ! «والذين يؤتون ما آتوا وقلوبهم وجلة» ( سورة الومنون : 60 ) سے کیا وہ لوگ مراد ہیں جو زنا کرتے ہیں ، چوری کرتے ہیں اور شراب پیتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” نہیں : ابوبکر کی بیٹی یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” صدیق کی بیٹی ! اس سے مراد وہ شخص ہے جو روزے رکھتا ہے ، صدقہ دیتا ہے ، اور نماز پڑھتا ہے ، اور ڈرتا رہتا ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو اس کا یہ عمل قبول نہ ہو “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 4198]
قال الشيخ الألباني:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
سنن الترمذی/تفسیر القرآن 24 (3175)، (تحفة الأشراف: 16301)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/159، 205) (حسن)