سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 4199
Sunan Ibn Majah 4199
کتاب #38: کتاب: زہد و ورع اور تقوی کے فضائل و مسائل
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ إِسْمَاعِيل بْنِ عِمْرَانَ الدِّمَشْقِيُّ , حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ , حَدَّثَنِي أَبُو عَبْدِ رَبٍّ , قَالَ: سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ , يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ: " إِنَّمَا الْأَعْمَالُ كَالْوِعَاءِ , إِذَا طَابَ أَسْفَلُهُ طَابَ أَعْلَاهُ , وَإِذَا فَسَدَ أَسْفَلُهُ فَسَدَ أَعْلَاهُ".
معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : ” اعمال برتن کی طرح ہیں ، جب اس میں نیچے اچھا ہو گا تو اوپر بھی اچھا ہو گا ، اور جب نیچے خراب ہو گا تو اوپر بھی خراب ہو گا “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 4199]
💡 وضاحت:
۱؎: پس جو اعمال خلوص اور صدق دل سے کئے جائیں ان کی تاثیر آدمی پر پڑتی ہے، اور لوگ خواہ مخواہ ایسے شخص کو اچھا سمجھتے ہیں، لیکن جو اعمال ریا کی نیت سے کئے جائیں اس کے کرنے والے پر نور نہیں ہوتا، اور تامل سے اس کا خبیث باطن عاقل آدمی کو ظاہر ہوتا ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 11458، ومصباح الزجاجة: 1494)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/94) (صحیح) (سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 1734)