سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 4159
Sunan Ibn Majah 4159
کتاب #38: کتاب: زہد و ورع اور تقوی کے فضائل و مسائل
12: بَابُ : مَعِيشَةِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
باب: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کی معیشت کا بیان۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ , عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ , عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ: " بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَنَحْنُ ثَلَاثُ مِائَةٍ , نَحْمِلُ أَزْوَادَنَا عَلَى رِقَابِنَا , فَفَنِيَ أَزْوَادُنَا حَتَّى كَانَ يَكُونُ لِلرَّجُلِ مِنَّا تَمْرَةٌ , فَقِيلَ: يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ , وَأَيْنَ تَقَعُ التَّمْرَةُ مِنَ الرَّجُلِ؟ فَقَالَ: لَقَدْ وَجَدْنَا فَقْدَهَا حِينَ فَقَدْنَاهَا , وَأَتَيْنَا الْبَحْرَ , فَإِذَا نَحْنُ بِحُوتٍ قَدْ قَذَفَهُ الْبَحْرُ , فَأَكَلْنَا مِنْهُ ثَمَانِيَةَ عَشَرَ يَوْمًا".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم تین سو آدمیوں کو روانہ کیا ، ہم نے اپنے توشے اپنی گردنوں پر لاد رکھے تھے ، ہمارا توشہ ختم ہو گیا ، یہاں تک کہ ہم میں سے ہر شخص کو ایک کھجور ملتی ، کسی نے پوچھا : ابوعبداللہ ! ایک کھجور سے آدمی کا کیا ہوتا ہو گا ؟ جواب دیا : جب وہ بھی ختم ہو گئی تو ہمیں اس کی قدر معلوم ہوئی ، ہم سمندر تک آئے ، آخر ہمیں ایک مچھلی ملی جسے سمندر نے باہر پھینک دیا تھا ، ہم اس میں سے اٹھارہ دن تک کھاتے رہے ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 4159]
💡 وضاحت:
۱؎: اور موٹے تازے ہو گئے، مچھلی اتنی بڑی تھی کہ اس کی پیٹھ کی دونوں ہڈیوں میں سے اونٹ نکل جاتا، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جب مدینہ لوٹ کر آئے تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ اللہ تعالیٰ نے تم کو کھانا بھیجا تھا“۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الشرکة 1 (2483)، الجہاد 124 (2983)، المغازي 65 (4360)، الصید 12 (19493)، صحیح مسلم/الصید 4 (1935)، سنن النسائی/الصید 35 (4356)، (تحفة الأشراف: 3125)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/القیامة 34 (2475)، موطا امام مالک/صفة النبي ﷺ10 (24)، سنن الدارمی/الصید 6 (2055) (صحیح)