سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 4161
Sunan Ibn Majah 4161
کتاب #38: کتاب: زہد و ورع اور تقوی کے فضائل و مسائل
13: بَابٌ في الْبِنَاءِ وَالْخَرَابِ
باب: گھر بنانے اور اجاڑنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عُثْمَانَ الدِّمَشْقِيُّ , حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ , حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى بْنِ أَبِي فَرْوَةَ , حَدَّثَنِي إِسْحَاق بْنُ أَبِي طَلْحَةَ , عَنْ أَنَسٍ , قَالَ: مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقُبَّةٍ عَلَى بَابِ رَجُلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ , فَقَالَ: " مَا هَذِهِ؟" , قَالُوا: قُبَّةٌ بَنَاهَا فُلَانٌ , قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كُلُّ مَالٍ يَكُونُ هَكَذَا , فَهُوَ وَبَالٌ عَلَى صَاحِبِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ" , فَبَلَغَ الْأَنْصَارِيَّ ذَلِكَ فَوَضَعَهَا , فَمَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدُ , فَلَمْ يَرَهَا , فَسَأَلَ عَنْهَا , فَأُخْبِرَ أَنَّهُ وَضَعَهَا لِمَا بَلَغَهُ عَنْكَ , فَقَالَ: " يَرْحَمُهُ اللَّهُ! يَرْحَمُهُ اللَّهُ".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک انصاری کے دروازے پر بنے گنبد پر سے گزرے ، تو سوال کیا : ” یہ کیا ہے “ ؟ لوگوں نے کہا : یہ گول گھر ہے ، اس کو فلاں نے بنایا ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو مال اس طرح خرچ ہو گا ، وہ اپنے مالک کے لیے روز قیامت وبال ہو گا ، انصاری کو اس کی خبر پہنچی ، تو اس نے اس گھر کو ڈھا دیا ، جب دوبارہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے گزرے ، تو دیکھا کہ وہاں وہ بنگلہ نہیں ہے ، تو اس کے بارے میں سوال فرمایا تو بتایا گیا کہ جب اس کو آپ کی کہی ہوئی بات کی خبر پہنچی ، تو اس نے اسے ڈھا دیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ اس پر رحم کرے ، اللہ اس پر رحم کرے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 4161]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ الوليد بن مسلم لم يصرح بالسماع المسلسل ¤ و حديث أبي داود (5237) يغني عنه ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 527
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 196، ومصباح الزجاجة: 1476)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الأدب 169 (5237) مطولاً (صحیح) (سند میں عیسیٰ بن عبد الاعلی مجہول ہیں، لیکن دوسرے طرق سے یہ صحیح ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 2830، سنن ابی داود: میں يرحمه الله کا لفظ نہیں ہے اس کی جگہ پر یہ الفاظ ہیں: كل بناء وبال على صاحبه إلا مالاً یعنی إلا ما لا بد منه )