سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 4157
Sunan Ibn Majah 4157
کتاب #38: کتاب: زہد و ورع اور تقوی کے فضائل و مسائل
12: بَابُ : مَعِيشَةِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
باب: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کی معیشت کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ , عَنْ شُعْبَةَ , عَنْ عَبَّاسٍ الْجُرَيْرِيِّ , قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا عُثْمَانَ يُحَدِّثُ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّهُمْ أَصَابَهُمْ جُوعٌ وَهُمْ سَبْعَةٌ , قَالَ: " فَأَعْطَانِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْعَ تَمَرَاتٍ , لِكُلِّ إِنْسَانٍ تَمْرَةٌ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان کو بھوک لگی اور وہ سات آدمی تھے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سات کھجوریں دیں ، ہر ایک کے لیے ایک ایک کھجور تھی ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 4157]
💡 وضاحت:
۱؎: صحیح بخاری میں ہے کہ سب کو سات سات کھجوریں دیں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح دون قوله لكل إنسان تمرة
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الأطعمة 23 (5411)، سنن الترمذی/صفة جہنم 34 (2477)، (تحفة الأشراف: 2474)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/298، 353، 415) (صحیح) (حدیث میں لكل إنسان تمرة کا لفظ شاذ ہے، اس لئے کہ صحیح حدیث میں فأعطاني لكل إنسان سبع تمرات آیا ہے کمافی صحیح البخاری)