سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 4027
Sunan Ibn Majah 4027
کتاب #37: کتاب: فتنوں سے متعلق احکام و مسائل
23: بَابُ : الصَّبْرِ عَلَى الْبَلاَءِ
باب: آفات و مصائب پر صبر کرنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ , وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى , قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ , حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ , عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ , قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ أُحُدٍ كُسِرَتْ رَبَاعِيَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَشُجَّ , فَجَعَلَ الدَّمُ يَسِيلُ عَلَى وَجْهِهِ , وَجَعَلَ يَمْسَحُ الدَّمَ عَنْ وَجْهِهِ , وَيَقُولُ: " كَيْفَ يُفْلِحُ قَوْمٌ خَضَبُوا وَجْهَ نَبِيِّهِمْ بِالدَّمِ , وَهُوَ يَدْعُوهُمْ إِلَى اللَّهِ , فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: لَيْسَ لَكَ مِنَ الأَمْرِ شَيْءٌ سورة آل عمران آية 128".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جنگ احد کے دن جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کے چار دانتوں میں سے ایک دانت ٹوٹ گیا ، اور سر زخمی ہو گیا ، تو خون آپ کے چہرہ مبارک پر بہنے لگا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم خون کو اپنے چہرہ سے پونچھتے جاتے تھے اور فرماتے جاتے تھے : وہ قوم کیسے کامیاب ہو سکتی ہے جس نے اپنے نبی کے چہرے کو خون سے رنگ دیا ہو ، حالانکہ وہ انہیں اللہ کی طرف دعوت دے رہا تھا ، تو اس وقت اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : «ليس لك من الأمر شيء» ” اے نبی ! آپ کو اس معاملے میں کچھ اختیار نہیں ہے “ ( سورة آل عمران : 128 ) ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 4027]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ: (تحفة الأشراف: 725)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الجہاد 36 (1791)، سنن الترمذی/التفسیر 4 (3003)، مسند احمد (3/113) (صحیح)