سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 4025
Sunan Ibn Majah 4025
کتاب #37: کتاب: فتنوں سے متعلق احکام و مسائل
23: بَابُ : الصَّبْرِ عَلَى الْبَلاَءِ
باب: آفات و مصائب پر صبر کرنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ , حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ , عَنْ شَقِيقٍ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ: كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَهُوَ" يَحْكِي نَبِيًّا مِنَ الْأَنْبِيَاءِ ضَرَبَهُ قَوْمُهُ , وَهُوَ يَمْسَحُ الدَّمَ عَنْ وَجْهِهِ , وَيَقُولُ: رَبِّ اغْفِرْ لِقَوْمِي فَإِنَّهُمْ لَا يَعْلَمُونَ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ گویا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ رہا ہوں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم انبیاء کرام ( علیہم السلام ) میں سے ایک نبی کی حکایت بیان کر رہے تھے جن کو ان کی قوم نے مارا پیٹا تھا ، وہ اپنے چہرے سے خون پونچھتے جاتے تھے ، اور یہ کہتے جاتے تھے : اے میرے رب ! میری قوم کی مغفرت فرما ، کیونکہ وہ لوگ نہیں جانتے ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 4025]
💡 وضاحت:
۱؎: خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ احد میں جب کافروں کے ہاتھ سے پتھر کھائے، چہرہ مبارک زخمی ہوا، دانت شہید ہوا، خون بہہ رہا تھا، لوگوں نے عرض کیا کہ اب تو کافروں کے لئے بددعا فرمائیے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ میری قوم کو ہدایت دے، یہ دین کو نہیں جانتے ہیں“۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/أحادیث الأنبیاء 54 (3477)، صحیح مسلم/الجہاد 36 (1792)، (تحفة الأشراف: 9260)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/456، 457، 380، 427، 432) (صحیح)