سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 4026
Sunan Ibn Majah 4026
کتاب #37: کتاب: فتنوں سے متعلق احکام و مسائل
23: بَابُ : الصَّبْرِ عَلَى الْبَلاَءِ
باب: آفات و مصائب پر صبر کرنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى , وَيُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى , قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ , أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ , عَنْ ابْنِ شِهَابٍ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ , وَسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَحْنُ أَحَقُّ بِالشَّكِّ مِنْ إِبْرَاهِيمَ إِذْ قَالَ: رَبِّ أَرِنِي كَيْفَ تُحْيِي الْمَوْتَى قَالَ أَوَلَمْ تُؤْمِنْ قَالَ بَلَى وَلَكِنْ لِيَطْمَئِنَّ قَلْبِي سورة البقرة آية 260 , وَيَرْحَمُ اللَّهُ لُوطًا , لَقَدْ كَانَ يَأْوِي إِلَى رُكْنٍ شَدِيدٍ , وَلَوْ لَبِثْتُ فِي السِّجْنِ طُولَ مَا لَبِثَ يُوسُفُ لَأَجَبْتُ الدَّاعِيَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہم ابراہیم علیہ السلام سے زیادہ شک کرنے کے حقدار ہیں ۱؎ جب انہوں نے کہا : اے میرے رب تو مجھ کو دکھا کہ تو مردوں کو کیسے زندہ کرے گا ؟ تو اللہ نے فرمایا : کیا تجھے یقین نہیں ہے ؟ انہوں نے عرض کیا : کیوں نہیں ( لیکن یہ سوال اس لیے ہے ) کہ میرے دل کو اطمینان حاصل ہو جائے ، اور اللہ تعالیٰ لوط علیہ السلام پر رحم کرے ، وہ زور آور شخص کی پناہ ڈھونڈھتے تھے ، اگر میں اتنے دنوں تک قید میں رہا ہوتا جتنے عرصہ یوسف علیہ السلام رہے ، تو جس وقت بلانے والا آیا تھا میں اسی وقت اس کے ساتھ ہو لیتا ۲؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 4026]
💡 وضاحت:
۱؎: مفہوم یہ ہے کہ اگر ہم کو شک نہیں ہوا تو بھلا ابراہیم علیہ السلام کو کیوں کر شک ہو سکتا ہے، انہوں نے تو عین الیقین کا مرتبہ حاصل کرنے کے لئے یہ سوال کیا تھا کہ مردے کو زندہ کرنا انہیں دکھا دیا جائے۔
۲؎: یہ تعریف ہے یوسف علیہ السلام کے صبر اور استقلال کی، اتنی لمبی قید پر بھی انہوں نے رہائی کے لئے جلدی نہیں کی۔
۲؎: یہ تعریف ہے یوسف علیہ السلام کے صبر اور استقلال کی، اتنی لمبی قید پر بھی انہوں نے رہائی کے لئے جلدی نہیں کی۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/أحادیث الأنبیاء 11 (3372)، صحیح مسلم/الإیمان 69 (151)، (تحفة الأشراف: 13325، 15313)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/326) (صحیح)