سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 3951
Sunan Ibn Majah 3951
کتاب #37: کتاب: فتنوں سے متعلق احکام و مسائل
9: بَابُ : مَا يَكُونُ مِنَ الْفِتَنِ
باب: (امت محمدیہ میں) ہونے والے فتنوں کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ , وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ , قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ , عَنْ الْأَعْمَشِ , عَنْ رَجَاءٍ الْأَنْصَارِيِّ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادِ بْنِ الْهَادِ , عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ , قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا صَلَاةً فَأَطَالَ فِيهَا , فَلَمَّا انْصَرَفَ , قُلْنَا: أَوْ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَطَلْتَ الْيَوْمَ الصَّلَاةَ , قَالَ: " إِنِّي صَلَّيْتُ صَلَاةَ رَغْبَةٍ وَرَهْبَةٍ , سَأَلْتُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لِأُمَّتِي ثَلَاثًا فَأَعْطَانِي اثْنَتَيْنِ , وَرَدَّ عَلَيَّ وَاحِدَةً , سَأَلْتُهُ أَنْ لَا يُسَلِّطَ عَلَيْهِمْ عَدُوًّا مِنْ غَيْرِهِمْ فَأَعْطَانِيهَا , وَسَأَلْتُهُ أَنْ لَا يُهْلِكَهُمْ غَرَقًا فَأَعْطَانِيهَا , وَسَأَلْتُهُ أَنْ لَا يَجْعَلَ بَأْسَهُمْ بَيْنَهُمْ فَرَدَّهَا عَلَيَّ".
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن بہت لمبی نماز پڑھائی ، پھر جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو ہم نے ( یا لوگوں نے ) عرض کیا : اللہ کے رسول ! آج تو آپ نے نماز بہت لمبی پڑھائی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہاں ، آج میں نے رغبت اور خوف والی نماز ادا کی ، میں نے اللہ تعالیٰ سے اپنی امت کے لیے تین باتیں طلب کیں جن میں سے اللہ تعالیٰ نے دو عطا فرما دیں اور ایک قبول نہ فرمائی ، میں نے اللہ تعالیٰ سے یہ طلب کیا تھا کہ میری امت پر اغیار میں سے کوئی دشمن مسلط نہ ہو ، تو اللہ تعالیٰ نے مجھے اسے دیا ، دوسری چیز میں نے اللہ تعالیٰ سے یہ طلب کی تھی کہ میری امت کو غرق کر کے ہلاک نہ کیا جائے ، اللہ تعالیٰ نے اسے بھی مجھے دیا ، تیسری یہ دعا کی تھی کہ میری امت آپس میں جنگ و جدال نہ کرے ، تو اللہ تعالیٰ نے میری یہ دعا قبول نہ فرمائی “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3951]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 11326، ومصباح الزجاجة: 1388)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/240) (صحیح) (تراجع الألبانی: رقم: 406)