سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 3953
Sunan Ibn Majah 3953
کتاب #37: کتاب: فتنوں سے متعلق احکام و مسائل
9: بَابُ : مَا يَكُونُ مِنَ الْفِتَنِ
باب: (امت محمدیہ میں) ہونے والے فتنوں کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ , عَنْ الزُّهْرِيِّ , عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ زَيْنَبَ ابْنَةِ أُمِّ سَلَمَةَ , عَنْ حَبِيبَةَ , عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ , عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ , أَنَّهَا قَالَتْ: اسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ نَوْمِهِ وَهُوَ مُحْمَرٌّ وَجْهُهُ , وَهُوَ يَقُولُ: " لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ , وَيْلٌ لِلْعَرَبِ مِنْ شَرٍّ قَدِ اقْتَرَبَ , فُتِحَ الْيَوْمَ مِنْ رَدْمِ يَأْجُوجَ , وَمَأْجُوجَ" وَعَقَدَ بِيَدَيْهِ عَشَرَةً , قَالَتْ زَيْنَبُ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَنَهْلِكُ وَفِينَا الصَّالِحُونَ , قَالَ: " إِذَا كَثُرَ الْخَبَثُ".
ام المؤمنین زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نیند سے بیدار ہوئے تو آپ کا مبارک چہرہ سرخ تھا ، اور آپ فرما رہے تھے : ” «لا إله إلا الله» عرب کے لیے تباہی ہے اس فتنے سے جو قریب آ گیا ہے ، آج یاجوج و ماجوج کی دیوار میں اتنا سوراخ ہو گیا ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ کی انگلیوں سے دس کی گرہ بنائی “ ۱؎ ، زینب رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کیا ہم ہلاک ہو جائیں گے ؟ حالانکہ ہم میں اچھے لوگ بھی موجود ہیں ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہاں ، جب معصیت ( برائی ) عام ہو جائے گی “ ۲؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3953]
💡 وضاحت:
۱؎: دس کی گرہ یہ ہے کہ شہادت کی انگلی کے سرے کو انگوٹھے کے پہلے موڑپر رکھ کردائرہ بنایا جائے۔
۲؎: تو نیک لوگوں کے ہوتے ہوئے بھی عذاب آئے گا، یاجوج اور ماجوج دو قومیں ہیں، جو قیامت کے قریب نکلیں گی۔
۲؎: تو نیک لوگوں کے ہوتے ہوئے بھی عذاب آئے گا، یاجوج اور ماجوج دو قومیں ہیں، جو قیامت کے قریب نکلیں گی۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/أحادیث الأنبیاء 6 (3346)، صحیح مسلم/الفتن 1 (2880)، سنن الترمذی/الفتن 23 (2187)، (تحفة الأشراف: 15880)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/428، 439) (صحیح)