سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 3949
Sunan Ibn Majah 3949
کتاب #37: کتاب: فتنوں سے متعلق احکام و مسائل
7: بَابُ : الْعَصَبِيَّةِ
باب: عصبیت کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ الرَّبِيعِ الْيُحْمِدِيُّ , عَنْ عَبَّادِ بْنِ كَثِيرٍ الشَّامِيِّ , عَنْ امْرَأَة مِنْهُمْ يُقَالُ لَهَا: فُسَيْلَةُ , قَالَتْ: سَمِعْتُ أَبِي , يَقُولُ , سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَمِنَ الْعَصَبِيَّةِ أَنْ يُحِبَّ الرَّجُلُ قَوْمَهُ , قَالَ: " لَا , وَلَكِنْ مِنَ الْعَصَبِيَّةِ أَنْ يُعِينَ الرَّجُلُ قَوْمَهُ عَلَى الظُّلْمِ".
فسیلہ نامی ایک عورت کہتی ہے کہ میں نے اپنے والد کو یہ کہتے سنا کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا : اے اللہ کے رسول ! کیا اپنی قوم سے محبت رکھنا عصبیت ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” نہیں ، بلکہ ظلم پر قوم کی مدد کرنا عصبیت ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3949]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ عباد بن كثير: متروك ¤ وللحديث طريق ضعيف عند أبي داود (5119) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 517
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 11757، ومصباح الزجاجة: 1386)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الأدب 121 (5119) مختصراً (ضعیف) (سند میں عباد بن کثیر اور فسیلہ ضعیف ہیں)