سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 3703
Sunan Ibn Majah 3703
کتاب #34: کتاب: اسلامی آداب و اخلاق
15: بَابُ : الْمُصَافَحَةِ
باب: مصافحہ (یعنی ہاتھ ملانے) کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ , وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ , عَنْ الْأَجْلَحِ , عَنْ أَبِي إِسْحَاق , عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ , قَالَ: قَال رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا مِنْ مُسْلِمَيْنِ يَلْتَقِيَانِ فَيَتَصَافَحَانِ , إِلَّا غُفِرَ لَهُمَا قَبْلَ أَنْ يَتَفَرَّقَا".
براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب دو مسلمان آپس میں ایک دوسرے سے ملتے اور مصافحہ کرتے ( ہاتھ ملاتے ) ہیں ، تو ان کے جدا ہونے سے پہلے ان کی مغفرت کر دی جاتی ہے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3703]
💡 وضاحت:
۱؎: ملاقات کے وقت صحیح اسلامی طریقہ سلام کرنا اور آپس میں ایک دوسرے سے مصافحہ کرنا اور ہاتھ ملانا ہے، آج کل غیر اسلامی تہذیب اور رسم ورواج سے متاثر ہو کر مسلمان ملاقات کے وقت صحیح طریقے کو چھوڑ کر ایک دوسرے کے سامنے جھکتے ہیں، جو سراسر غیر اسلامی طریقہ ہے، اسلام میں قدم بوسی، فرشی سلام اور پاؤں چھونا اورکسی کے سامنے رکوع سجود ہونا ممنوع ہے، اور یہ سب کام تقلید و تشبہ کے جذبہ سے کیے جائیں تو ان کی برائی میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ سنن أبي داود (5212) ترمذي (2727) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 509
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الأدب 153 (5212)، سنن الترمذی/الإستئذان31 (2727)، (تحفة الأشراف: 1799)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/289، 303) (صحیح) (نیز ملاحظہ ہو: الصحیحة: 525 - 526)