سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 3702
Sunan Ibn Majah 3702
کتاب #34: کتاب: اسلامی آداب و اخلاق
15: بَابُ : الْمُصَافَحَةِ
باب: مصافحہ (یعنی ہاتھ ملانے) کا بیان۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , عَنْ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ , عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّدُوسِيِّ ,، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ , قَالَ: قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيَنْحَنِي بَعْضُنَا لِبَعْضٍ؟ قَالَ: " لَا" , قُلْنَا: أَيُعَانِقُ بَعْضُنَا بَعْضًا؟ قَالَ: " لَا وَلَكِنْ تَصَافَحُوا".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کیا ( ملاقات کے وقت ) ہم ایک دوسرے سے جھک کر ملیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” نہیں “ ، پھر ہم نے عرض کیا : کیا ہم ایک دوسرے سے معانقہ کریں ( گلے ملیں ) ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” نہیں ، بلکہ مصافحہ کیا کرو “ ( ہاتھ سے ہاتھ ملاؤ ) ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3702]
قال الشيخ الألباني:
حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ ترمذي (2728) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 509
تخریج دارالدعوہ:
سنن الترمذی/الإستئذان 31 (2728)، (تحفة الأشراف: 822)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/198) (حسن) (سند میں حنظلہ ضعیف ہے، لیکن معانقہ کے جملہ کے بغیر یہ دوسری سند سے حسن ہے، ملاحظہ ہو: الصحیحة: 160)