سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 353
Sunan Ibn Majah 353
کتاب #2: کتاب: طہارت اور اس کے احکام و مسائل
27: بَابُ : الرَّجُلِ يُسَلَّمُ عَلَيْهِ وَهُوَ يَبُولُ
باب: پیشاب کے دوران سلام کا جواب۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، وَالْحُسَيْنُ بْنُ أَبِي السَّرِيِّ العسقلاني ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: " مَرَّ رَجُلٌ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَبُولُ، فَسَلَّمَ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پیشاب کر رہے تھے کہ ایک آدمی آپ کے پاس سے گزرا ، اس نے آپ کو سلام کیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سلام کا جواب نہیں دیا ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 353]
💡 وضاحت:
۱؎: ”سلام کا جواب نہیں دیا“ کا مطلب یہ ہے کہ فوری طور پر جواب نہیں دیا، نہ کہ مطلقاً جواب ہی نہیں دیا، کیونکہ حدیث نمبر (۳۵۱) پر گزر چکا ہے کہ پیشاب سے فارغ ہونے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ہتھیلیاں زمین پر ماریں اور تیمم کیا، اس کے بعد سلام کا جواب دیا، اور سنن نسائی میں مہاجر بن قنفذ رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے «فلم يرد عليه السلام حتى توضأ فلما توضأ رد عليه» وضو کرنے تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب نہ دیا، پھر جب وضو کرلیا تو سلام کا جواب دیا۔
قال الشيخ الألباني:
حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/ الحیض 28 (370)، سنن ابی داود/ الطہارة 8 (16)، سنن الترمذی/ الطہارة 67 (90)، الاستئذان 27 (2720)، سنن النسائی/الطہارة 33 (37)، (تحفة الأشراف: 7696) (حسن صحیح)