سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 351
Sunan Ibn Majah 351
کتاب #2: کتاب: طہارت اور اس کے احکام و مسائل
27: بَابُ : الرَّجُلِ يُسَلَّمُ عَلَيْهِ وَهُوَ يَبُولُ
باب: پیشاب کے دوران سلام کا جواب۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا مَسْلَمَةُ بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: " مَرَّ رَجُلٌ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَبُولُ، فَسَلَّمَ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ، فَلَمَّا فَرَغَ ضَرَبَ بِكَفَّيْهِ الْأَرْضَ فَتَيَمَّمَ، ثُمَّ رَدَّ عَلَيْهِ السَّلَامَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پیشاب کر رہے تھے کہ ایک آدمی آپ کے پاس سے گزرا ، اس شخص نے آپ کو سلام کیا ، آپ نے سلام کا جواب نہ دیا ، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم پیشاب سے فارغ ہو گئے تو اپنی دونوں ہتھیلیاں زمین پہ ماریں ، اور تیمم کیا ، پھر اس کے سلام کا جواب دیا ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 351]
قال الشيخ الألباني:
صحيح بلفظ الجدار مكان الأرض
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف جدًا ¤ مسلمة بن علي: متروك (تقريب: 6662) ¤ والحديث ضعفه البوصيري ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 389
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 15401، ومصباح الزجاجة: 145) (صحیح) (اس سند میں ضعف ہے اس لئے کہ مسلمہ بن علی ضعیف ہیں، ابی اور صحیحین میں الأرض کے بجائے الجدار کے لفظ سے یہ حدیث صحیح ہے، ملاحظہ ہو: صحیح أبی داود: 256)