سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 352
Sunan Ibn Majah 352
کتاب #2: کتاب: طہارت اور اس کے احکام و مسائل
27: بَابُ : الرَّجُلِ يُسَلَّمُ عَلَيْهِ وَهُوَ يَبُولُ
باب: پیشاب کے دوران سلام کا جواب۔
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، عَنْ هَاشِمِ بْنِ الْبَرِيدِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ رَجُلًا مَرَّ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَبُولُ، فَسَلَّمَ عَلَيْهِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا رَأَيْتَنِي عَلَى مِثْلِ هَذِهِ الْحَالَةِ فَلَا تُسَلِّمْ عَلَيَّ، فَإِنَّكَ إِنْ فَعَلْتَ ذَلِكَ لَمْ أَرُدَّ عَلَيْكَ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پیشاب کر رہے تھے کہ ایک آدمی آپ کے پاس سے گزرا ، اس نے آپ کو سلام کیا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا : ” جب تم مجھے اس حالت میں دیکھو تو سلام نہ کرو ، اگر تم ایسا کرو گے تو میں جواب نہ دوں گا “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 352]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ عبد اللّٰه بن محمد بن عقيل ضعيف ¤ والحديث الآتي (الأصل: 353) يغني عنه ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 390
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 2374، ومصباح الزجاجة: 146) (صحیح) (سوید بن سعید ضعیف راوی ہے، لیکن ان کی متابعت عیسیٰ بن یونس سے مسند أبی یعلی میں موجود ہے، اور منتقی ابن الجارود: 1/23، میں ابن عمر رضی اللہ عنہما کا شاہد موجود ہے)