سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 3181
Sunan Ibn Majah 3181
کتاب #28: کتاب: ذبیحہ کے احکام و مسائل
7: بَابُ : النَّهْيِ عَنْ ذَبْحِ ذَوَاتِ الدَّرِّ
باب: دودھ والے جانور کو ذبح کرنا منع ہے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْمُحَارِبِيُّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي قُحَافَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ وَلِعُمَرَ: " انْطَلِقُوا بِنَا إِلَى الْوَاقِفِيِّ"، قَالَ: فَانْطَلَقْنَا فِي الْقَمَرِ، حَتَّى أَتَيْنَا الْحَائِطَ، فَقَالَ: " مَرْحَبًا وَأَهْلًا"، ثُمَّ أَخَذَ الشَّفْرَةَ، ثُمَّ جَالَ فِي الْغَنَمِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِيَّاكَ وَالْحَلُوبَ"، أَوْ قَالَ: " ذَاتَ الدَّرِّ".
ابوبکر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے اور عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا : ” تم دونوں ہمیں واقفی کے پاس لے چلو ، تو ہم لوگ چاندنی رات میں چلے یہاں تک کہ باغ میں پہنچے تو اس نے ہمیں مرحبا و خوش آمدید کہا ، پھر چھری سنبھالی اور بکریوں میں گھوما آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” دودھ والی “ یا فرمایا : ” تھن والی بکری سے اپنے آپ کو بچانا “ یعنی اسے ذبح نہ کرنا ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3181]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف جدا
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ يحيي بن عبيد اﷲ: متروك ¤ والمحاربي عنعن ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 490
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 6627، ومصباح الزجاجة: 1100) (ضعیف جدا) (سند میں یحییٰ بن عبید اللہ متروک راوی ہے)