سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 3180
Sunan Ibn Majah 3180
کتاب #28: کتاب: ذبیحہ کے احکام و مسائل
7: بَابُ : النَّهْيِ عَنْ ذَبْحِ ذَوَاتِ الدَّرِّ
باب: دودھ والے جانور کو ذبح کرنا منع ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ خَلِيفَةَ ، ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَنْبَأَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ جَمِيعًا، عَنْ يَزِيدَ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ، فَأَخَذَ الشَّفْرَةَ لِيَذْبَحَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِيَّاكَ وَالْحَلُوبَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک انصاری کے پاس تشریف لائے تو اس نے آپ کی ضیافت کے لیے جانور ذبح کرنے کے واسطے چھری سنبھالی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا : ” دودھ والی سے اپنے آپ کو بچانا “ یعنی اسے ذبح نہ کرنا ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3180]
💡 وضاحت:
۱؎: دودھ والے جانور کا بلا عذر ذبح کرنا مکروہ ہے، اس لئے کہ دودھ سے بہتوں کو بہت دنوں تک فائدہ ہو سکتا ہے، اور گوشت کھا لینے میں یہ فائدہ جاتا رہے گا۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 13462)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الأشربة 20 (2038)، سنن الترمذی/الزہد 39 (2369) (صحیح)