سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 3183
Sunan Ibn Majah 3183
کتاب #28: کتاب: ذبیحہ کے احکام و مسائل
9: بَابُ : ذَكَاةِ النَّادِّ مِنَ الْبَهَائِمِ
باب: قابو سے باہر ہو جانے والے جانور کو کیسے ذبح کیا جائے؟
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عُبَيْدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ ، عَنْ جَدِّهِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَنَدَّ بَعِيرٌ فَرَمَاهُ رَجُلٌ بِسَهْمٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ لَهَا أَوَابِدَ أَحْسَبُهُ، قَالَ: كَأَوَابِدِ الْوَحْشِ، فَمَا غَلَبَكُمْ مِنْهَا فَاصْنَعُوا بِهِ هَكَذَا".
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ ایک سفر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے کہ ایک اونٹ سرکش ہو گیا ، ایک شخص نے اس کو تیر مارا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ان میں کچھ وحشی ہوتے ہیں “ ، میرا خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جنگلی جانوروں کی طرح تو جو ان میں سے تمہارے قابو میں نہ آ سکے ، اس کے ساتھ ایسا ہی کرو “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3183]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی بسم اللہ کہہ کر تیر، برچھی وغیرہ سے مار دو، اگر وہ مر جائے تو حلال ہو گا یہ اضطراری ذبح ہے، اس کا حکم مثل ذبح کے ہے، جب ذبح پر قدرت نہ ہو، اب تیر کے قائم مقام بندوق اور توپ ہے، اگر بندوق بسم اللہ کہہ کر چلائے، اور جانور ذبح کرنے سے پہلے مر جائے تو وہ حلال ہے، یہی قول محققین کا ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: (3137)، (تحفة الأشراف: 3516) (صحیح)