سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 3045
Sunan Ibn Majah 3045
کتاب #26: کتاب: حج و عمرہ کے احکام و مسائل
71: بَابُ : الْحَلْقِ
باب: حلق (سر منڈانے) کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِسْحَاق ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: " قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، لِمَ ظَاهَرْتَ لِلْمُحَلِّقِينَ ثَلَاثًا، وَلِلْمُقَصِّرِينَ وَاحِدَةً؟ قَالَ: إِنَّهُمْ لَمْ يَشُكُّوا".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ عرض کیا گیا کہ اللہ کے رسول ! آپ نے بال منڈوانے والوں کے لیے تین بار دعا فرمائی ، اور بال کتروانے والوں کے لیے ایک بار ، اس کی کیا وجہ ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” انہوں نے شک نہیں کیا “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3045]
💡 وضاحت:
۱؎: بلکہ جس حکم کو اللہ تعالیٰ نے پہلی بار بیان کیا اسی پر عمل کیا، قرآن شریف میں ہے: «محلقين رؤوسكم ومقصرين» (سورة الفتح: 27) تو پہلے حلق کو ذکر فرمایا۔
قال الشيخ الألباني:
حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ عبد اللّٰه ابن أبي نجيح عنعن وھو مدلس ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 486
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 6410، ومصباح الزجاجة: 1058)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/353) (حسن)