سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 2972
Sunan Ibn Majah 2972
کتاب #26: کتاب: حج و عمرہ کے احکام و مسائل
39: بَابُ : طَوَافِ الْقَارِنِ
باب: قارن کے طواف کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَعْلَى بْنِ حَارِثٍ الْمُحَارِبِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ غَيْلَانَ بْنِ جَامِعٍ ، عَنْ لَيْثٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، وَطَاوُسٍ ، وَمُجَاهِدٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، وَابْنِ عُمَرَ ، وابن عباس " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَمْ يَطُفْ هُوَ وَأَصْحَابُهُ لِعُمْرَتِهِمْ وَحَجَّتِهِمْ حِينَ قَدِمُوا، إِلَّا طَوَافًا وَاحِدًا".
جابر بن عبداللہ ، عبداللہ بن عمر اور عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ جب مکہ آئے تو انہوں نے حج اور عمرہ دونوں کے لیے ایک ہی طواف کیا ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2972]
💡 وضاحت:
۱؎: یہاں طواف سے مراد سعی ہے، متمتع پر صفا و مروہ کی دو سعی واجب ہیں جب کہ قارن کے لیے صرف ایک سعی کافی ہے خواہ طواف قدوم (زیارت) کے بعد کرے یہی مسئلہ مفرد حاجی کے لیے بھی ہے، واضح رہے کہ بعض حدیثوں میں سعی کے لیے بھی طواف کا لفظ وارد ہوا ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح لغيره
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 2479، ومصباح الزجاجة: 1043) (صحیح) (سند میں میں لیث بن أبی سلیم ضعیف اور مدلس ہیں، لیکن آگے کی حدیثوں سے یہ صحیح ہے)