سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 277
Sunan Ibn Majah 277
کتاب #2: کتاب: طہارت اور اس کے احکام و مسائل
4: بَابُ : الْمُحَافَظَةِ عَلَى الْوُضُوءِ
باب: پابندی سے وضو کرنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ ثَوْبَانَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اسْتَقِيمُوا وَلَنْ تُحْصُوا، وَاعْلَمُوا أَنَّ خَيْرَ أَعْمَالِكُمُ الصَّلَاةَ، وَلَا يُحَافِظُ عَلَى الْوُضُوءِ إِلَّا مُؤْمِنٌ".
ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” راہ استقامت پر قائم رہو ۱؎ ، تم ساری نیکیوں کا احاطہٰ نہیں کر سکو گے ، اور تم جان لو کہ تمہارا بہترین عمل نماز ہے ، اور وضو کی محافظت صرف مومن کرتا ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 277]
💡 وضاحت:
۱؎: راہ استقامت پر قائم رہو کا مطلب ہے کہ پوری ثابت قدمی کے ساتھ اسلام کے اوامر و نواہی پر جمے رہو، استقامت کمال ایمان کی علامت ہے، اس لئے اس مرتبہ پر بہت ہی کم لوگ پہنچ پاتے ہیں کیونکہ یہ مشکل امر ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 2086، ومصباح الزجاجة: 114)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/277، 282)، سنن الدارمی/الطہارة 2 (681) (صحیح) (سند میں سالم بن ابی الجعد اور ثوبان رضی اللہ عنہ کے درمیان انقطاع ہے، لیکن دارمی اور ابن حبان میں سند متصل ہے، ملاحظہ ہو: الإرواء: 412)