سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 279
Sunan Ibn Majah 279
کتاب #2: کتاب: طہارت اور اس کے احکام و مسائل
4: بَابُ : الْمُحَافَظَةِ عَلَى الْوُضُوءِ
باب: پابندی سے وضو کرنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، حَدَّثَنِي إِسْحَاق بْنُ أَسِيدٍ ، عَنْ أَبِي حَفْصٍ الدِّمَشْقِيِّ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ ، يَرْفَعُ الْحَدِيثَ، قَالَ: " اسْتَقِيمُوا وَنِعِمَّا إِنْ تَسْتَقيِمُوا، وَخَيْرُ أَعْمَالِكُمُ الصَّلَاةُ، وَلَا يُحَافِظُ عَلَى الْوُضُوءِ إِلَّا مُؤْمِنٌ".
ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم استقامت پر قائم رہو ، اور کیا ہی بہتر ہے ، اگر تم اس پر قائم رہ سکو ، اور تمہارے اعمال میں سب سے بہتر عمل نماز ہے ، اور وضو کی محافظت صرف مومن ہی کرتا ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 279]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ إسحاق بن أسيد: فيه ضعف و شيخه أبو حفص الدمشقي: مجهول (تقريب: 342،8057) ¤ والحديث السابق (الأصل: 277) يغني عنه ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 386
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4933، ومصباح الزجاجة: 116) (صحیح) (سند میں ابو حفص دمشقی مجہول ہیں، لیکن شواہد کی بناء پر حدیث صحیح ہے، ملاحظہ ہو: الإرواء: 2/137)