سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 275
Sunan Ibn Majah 275
کتاب #2: کتاب: طہارت اور اس کے احکام و مسائل
3: بَابُ : مِفْتَاحُ الصَّلاَةِ الطُّهُورُ
باب: نماز کی کنجی وضو (طہارت) ہے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مِفْتَاحُ الصَّلَاةِ الطُّهُورُ، وَتَحْرِيمُهَا التَّكْبِيرُ، وَتَحْلِيلُهَا التَّسْلِيمُ".
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” نماز کی کنجی طہارت ( وضو ) ہے ، اور ( دوران نماز ممنوع چیزوں کو ) حرام کر دینے والی چیز تکبیر ( تحریمہ ) ہے ، اور ( نماز سے باہر ) امور کو حلال کر دینے والی چیز سلام ہے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 275]
💡 وضاحت:
۱؎: تکبیر اولیٰ کہنے کے بعد وہ سارے افعال حرام ہو جاتے ہیں، جسے اللہ تعالیٰ نے نماز میں حرام قرار دیا ہے، اور سلام پھیرنے کے بعد وہ سارے افعال حلال ہو جاتے ہیں، جنہیں نماز کے باہر اللہ تعالیٰ نے حلال قرار دیا ہے۔
قال الشيخ الألباني:
حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الطہارة 31 (61)، سنن الترمذی/الطہارة 3 (3)، (تحفة الأشراف: 10265)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/123)، سنن الدارمی/الطہارة 21 (713) (حسن صحیح) (ملاحظہ ہو: الإرواء: 301)