سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 2752
Sunan Ibn Majah 2752
کتاب #24: کتاب: وراثت کے احکام و مسائل
18: بَابُ : الرَّجُلِ يُسْلِمُ عَلَى يَدَيِ الرَّجُلِ
باب: نو مسلم کا وارث وہ ہے جس کے ہاتھ پر اس نے اسلام قبول کیا ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ تَمِيمًا الدَّارِيَّ ، يَقُولُ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا السُّنَّةُ فِي الرَّجُلِ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ يُسْلِمُ عَلَى يَدَيِ الرَّجُلِ، قَالَ: " هُوَ أَوْلَى النَّاسِ بِمَحْيَاهُ وَمَمَاتِهِ".
عبداللہ بن موہب کہتے ہیں کہ میں نے تمیم داری رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! اہل کتاب کا کوئی آدمی اگر کسی کے ہاتھ پر مسلمان ہوتا ہے تو اس میں شرعی حکم کیا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” زندگی اور موت دونوں حالتوں میں وہ اس کا زیادہ قریبی ہے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2752]
💡 وضاحت:
۱؎: ظاہر حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ اگر نو مسلم کا کوئی وارث نہ تو اس کی میراث کا حق دار وہ شخص ہے جس نے اس کو مسلمان کیا۔
قال الشيخ الألباني:
حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الفرائض 13 (2918)، سنن الترمذی/الفرائض20 (2112)، (تحفة الأشراف: 2052)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/104، 103)، سنن الدارمی/الفرائض 34 (3076) (حسن صحیح)