سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 2751
Sunan Ibn Majah 2751
کتاب #24: کتاب: وراثت کے احکام و مسائل
17: بَابُ : إِذَا اسْتَهَلَّ الْمَوْلُودُ وَرِثَ
باب: پیدا ہوتے ہی رونے والے بچہ کے وارث ہونے کا بیان۔
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، وَالْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ ، قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَرِثُ الصَّبِيُّ حَتَّى يَسْتَهِلَّ صَارِخًا"، قَالَ: وَاسْتِهْلَالُهُ أَنْ يَبْكِيَ وَيَصِيحَ أَوْ يَعْطِسَ.
جابر بن عبداللہ اور مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ( ولادت کے وقت ) بچہ وارث نہیں ہو گا جب تک کہ وہ زور سے استہلال نہ کرے “ ۱؎ ۔ راوی کہتے ہیں : بچے کے استہلال کا مطلب یہ ہے کہ وہ روئے یا چیخے یا چھینکے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2751]
💡 وضاحت:
۱؎: غرض کوئی کام ایسا کرے جس سے اس کی زندگی ثابت ہو تو وہ وارث ہو گا۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 2257، (الف) 1266 (الف) (صحیح) (تراجع الألبانی: رقم: 584)