📖 سنن ابن ماجه • فہرست کتب (Book Index) ↗

سنن ابن ماجه

Sunan Ibn Majah (سُنَنُ ابْنِ مَاجَهْ)
📁 کتاب: دیت (خون بہا) کے احکام و مسائل (كتاب الديات) 🏷️ باب: باب: قاتل کو معاف کر دینے کا بیان۔
عربی:
اردو:
سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 2691 Sunan Ibn Majah 2691
کتاب #22: کتاب: دیت (خون بہا) کے احکام و مسائل
34: بَابُ : الْعَفْوِ عَنِ الْقَاتِلِ
باب: قاتل کو معاف کر دینے کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو عُمَيْرٍ عِيسَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ النَّحَّاسِ ، وَعِيسَى بْنُ يُونُسَ ، وَالْحُسَيْنُ بْنُ أَبِي السَّرِيِّ العسقلاني ، قَالُوا: حَدَّثَنَا ضَمْرَةُ بْنُ رَبِيعَةَ ، عَنِ ابْنِ شَوْذَبٍ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: أَتَى رَجُلٌ بِقَاتِلِ وَلِيِّهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اعْفُ" فَأَبَى، فَقَالَ: " خُذْ أَرْشَكَ"، فَأَبَى، قَالَ: " اذْهَبْ فَاقْتُلْهُ فَإِنَّكَ مِثْلُهُ" قَالَ: فَلُحِقَ بِهِ، فَقِيلَ لَهُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ قَالَ: " اقْتُلْهُ فَإِنَّكَ مِثْلُهُ"، فَخَلَّى سَبِيلَهُ قَالَ: فَرُئِيَ يَجُرُّ نِسْعَتَهُ ذَاهِبًا إِلَى أَهْلِهِ، قَالَ: كَأَنَّهُ قَدْ كَانَ أَوْثَقَهُ، قَالَ أَبُو عُمَيْرٍ فِي حَدِيثِهِ: قَالَ ابْنُ شَوْذَبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، فَلَيْسَ لِأَحَدٍ بَعْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَقُولُ: " اقْتُلْهُ فَإِنَّكَ مِثْلُهُ"، قَالَ ابْن مَاجَةَ: هَذَا حَدِيثُ الرَّمْلِيِّينَ لَيْسَ إِلَّا عِنْدَهُمْ.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص اپنے ولی کے قاتل کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اسے معاف کر دو “ ، اس نے انکار کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” دیت لے لو “ اس نے انکار کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جاؤ اسے قتل کر دو اور تم بھی اسی کی طرح ہو جاؤ “ ۱؎ چنانچہ اس سے مل کر کہا گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے : ” جاؤ تم اس کو قتل کر دو تم بھی اس کے مثل ہو جاؤ “ تو اس نے اسے چھوڑ دیا ، قاتل کو اپنے گھر والوں کی طرف اپنا پٹا گھسیٹتے ہوئے جاتے دیکھا گیا ، گویا کہ مقتول کے وارث نے اسے باندھ رکھا تھا ۱؎ ۔ ابوعمیر اپنی حدیث میں کہتے ہیں : ابن شوذب نے عبدالرحمٰن بن قاسم سے یہ قول نقل کیا ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی کے لئے «اقتله فإنك مثله» کہنا درست نہیں ۔ ابن ماجہ کہتے ہیں : یہ اہل رملہ کی حدیث ہے ، ان کے علاوہ کسی اور نے یہ روایت نہیں کی ہے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2691]
💡 وضاحت:
۱؎: علماء نے حدیث کے اس ٹکڑے کی توضیح یوں کی ہے کہ قاتل قتل کی وجہ سے خیر سے محروم ہوا، تم بھی اس کو قصاصاً قتل کر کے خیر سے محروم ہو جاؤ گے، کیونکہ اس کو قتل کرنے سے مقتول زندہ نہیں ہو گا، ایسی صورت میں اس پر رحم کرنا ہی بہتر ہے، بعض علماء کہتے ہیں کہ اس نے قتل کی نیت سے اسے نہیں مارا تھا، اس لئے دیانۃ اس پر قصاص لازم نہیں تھا، اگرچہ قضاءاً لازم تھا، اور بعض کہتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کے مطابق اس آدمی کو عمل کرنا چاہئے، گرچہ آپ کا فرمان بطور سفارش تھا، نہ کہ بطور حکم، اگر وہ آپ کے اس ارشاد کے خلاف کرتا تو اپنے آپ کو محرومی اور بدنصیبی کا مستحق بنا لیتا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن النسائی/القسامة 3 (4734)، (تحفة الأشراف: 451) (صحیح)
سنن ابن ماجه • حدیث #2691
2689 2690 2691 2692 2693

📖 اسی باب کی مزید احادیث (Related Hadiths)

#2690 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُ...
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں قتل کر دیا تو...
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ