سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 2690
Sunan Ibn Majah 2690
کتاب #22: کتاب: دیت (خون بہا) کے احکام و مسائل
34: بَابُ : الْعَفْوِ عَنِ الْقَاتِلِ
باب: قاتل کو معاف کر دینے کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَتَلَ رَجُلٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرُفِعَ ذَلِكَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَدَفَعَهُ إِلَى وَلِيِّ الْمَقْتُولِ، فَقَالَ الْقَاتِلُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَاللَّهِ مَا أَرَدْتُ قَتْلَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْوَلِيِّ: " أَمَا إِنَّهُ إِنْ كَانَ صَادِقًا ثُمَّ قَتَلْتَهُ دَخَلْتَ النَّارَ"، قَالَ: فَخَلَّى سَبِيلَهُ، قَالَ: فَكَانَ مَكْتُوفًا بِنِسْعَةٍ، فَخَرَجَ يَجُرُّ نِسْعَتَهُ، فَسُمِّيَ ذَا النِّسْعَةِ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں قتل کر دیا تو اس کا مقدمہ آپ کے پاس لایا گیا ، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قاتل کو مقتول کے ولی کے حوالے کر دیا ، قاتل نے کہا : اللہ کے رسول ! اللہ کی قسم ، میرا اس کو قتل کرنے کا قطعاً ارادہ نہیں تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ولی سے کہا : ” اگر یہ اپنی بات میں سچا ہے ، اور تم نے اس کو قتل کر دیا تو تم جہنم میں جاؤ گے “ تو مقتول کے ولی نے اس کو چھوڑ دیا ، قاتل پٹے سے بندھا ہوا تھا ، وہ پٹا گھسیٹتا ہوا نکلا ، اور اس کا نام ہی پٹے والا پڑ گیا ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2690]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الدیات 3 (4498)، سنن الترمذی/الدیات 13 (1407)، سنن النسائی/القسامة 3 (4726)، (تحفة الأشراف: 12507) (صحیح)