سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 2683
Sunan Ibn Majah 2683
کتاب #22: کتاب: دیت (خون بہا) کے احکام و مسائل
31: بَابُ : الْمُسْلِمُونَ تَتَكَافَأُ دِمَاؤُهُمْ
باب: مسلمانوں کے خون برابر ہیں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ حَنَشٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْمُسْلِمُونَ تَتَكَافَأُ دِمَاؤُهُمْ وَهُمْ يَدٌ عَلَى مَنْ سِوَاهُمْ يَسْعَى بِذِمَّتِهِمْ أَدْنَاهُمْ وَيُرَدُّ عَلَى أَقْصَاهُمْ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مسلمانوں کے خون برابر ہیں ، اور وہ اپنے مخالفوں کے لیے ایک ہاتھ کی طرح ہیں ، ان میں سے ادنی شخص بھی کسی کو امان دے سکتا ہے ، اور سب کو اس کی امان قبول کرنی ہو گی ، اور ( لشکر میں ) سب سے دور والا شخص بھی مال غنیمت کا مستحق ہو گا “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2683]
💡 وضاحت:
۱؎: اس کا مطلب یہ ہے کہ مثلاً ایک لشکر لڑائی کے لئے نکلا کچھ آگے کچھ پیچھے اب آگے والوں کو کچھ مال ملا تو پیچھے والے بھی گو ان سے دور ہوں اس میں شریک ہوں گے، اس لئے کہ وہ ان کی مدد کے لئے آ رہے تھے تو گویا انہی کے ساتھ تھے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأ شراف: 6029، ومصباح الزجاجة: 948) وقد مضی تمامہ برقم: (2660) (صحیح) (سند میں حنش (حسین بن قیس) ضعیف ہے، لیکن شواہد کی وجہ سے حدیث صحیح ہے، ملاحظہ ہو: المشکاة: 3475)