سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 2681
Sunan Ibn Majah 2681
کتاب #22: کتاب: دیت (خون بہا) کے احکام و مسائل
30: بَابُ : أَعَفُّ النَّاسِ قِتْلَةً أَهْلُ الإِيمَانِ
باب: قاتلوں میں اہل ایمان کے سب سے بہتر ہونے کا بیان۔
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ مُغِيرَةَ ، عَنْ شِبَاكٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ مِنْ أَعَفِّ النَّاسِ قِتْلَةً أَهْلَ الْإِيمَانِ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” قتل کے مسئلہ میں اہل ایمان سب سے زیادہ پاکیزہ اور بہتر ہیں “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2681]
💡 وضاحت:
۱؎: اس لئے کہ وہ ناحق اور بے جا قتل نہیں کرتے، اور وہ انسان ہی نہیں بلکہ جانور کو بھی بری طرح تکلیف دے کر نہیں مارتے، اور وہ تیز چھری سے اللہ تعالیٰ کا نام لے کر ذبح کرتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ سنن أبي داود (2666) ¤ مغيرة و إبراهيم النخعي عنعنا ¤ وانظر الحديث الآتي (2682) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 475
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 9441)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الجہاد 120 (2666)، مسند احمد (1/393) (ضعیف) (ہشیم بن بشیر اور شباک دونوں مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے، نیز سند میں اضطراب ہے ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: 1232)