📖 سنن ابن ماجه • فہرست کتب (Book Index) ↗

سنن ابن ماجه

Sunan Ibn Majah (سُنَنُ ابْنِ مَاجَهْ)
📁 کتاب: دیت (خون بہا) کے احکام و مسائل (كتاب الديات) 🏷️ باب: باب: ایک آدمی نے دوسرے کے ہاتھ میں دانت کاٹا، اس کے ہاتھ کھینچنے پر کاٹنے والے کے آگے کے دو دانت گر گئے تو اس کے حکم کا بیان۔
عربی:
اردو:
سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 2656 Sunan Ibn Majah 2656
کتاب #22: کتاب: دیت (خون بہا) کے احکام و مسائل
20: بَابُ : مَنْ عَضَّ رَجُلاً فَنَزَعَ يَدَهُ فَنَدَرَ ثَنَايَاهُ
باب: ایک آدمی نے دوسرے کے ہاتھ میں دانت کاٹا، اس کے ہاتھ کھینچنے پر کاٹنے والے کے آگے کے دو دانت گر گئے تو اس کے حکم کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَمَّيْهِ يَعْلَى وَسَلَمَةَ ابني أمية، قَالَا: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ وَمَعَنَا صَاحِبٌ لَنَا فَاقْتَتَلَ هُوَ وَرَجُلٌ آخَرُ وَنَحْنُ بِالطَّرِيقِ، قَالَ: فَعَضَّ الرَّجُلُ يَدَ صَاحِبِهِ فَجَذَبَ صَاحِبُهُ يَدَهُ مِنْ فِيهِ فَطَرَحَ ثَنِيَّتَهُ، فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَلْتَمِسُ عَقْلَ ثَنِيَّتِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَعْمِدُ أَحَدُكُمْ إِلَى أَخِيهِ فَيَعَضُّهُ كَعِضَاضِ الْفَحْلِ، ثُمَّ يَأْتِي يَلْتَمِسُ الْعَقْلَ لَا عَقْلَ لَهَا" قَالَ: فَأَبْطَلَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
یعلیٰ بن امیہ اور سلمہ بن امیہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ غزوہ تبوک میں نکلے ، ہمارے ساتھ ہمارا ایک ساتھی تھا ، وہ اور ایک دوسرا شخص دونوں آپس میں لڑ پڑے ، جب کہ ہم لوگ راستے میں تھے ، ان میں سے ایک نے دوسرے کا ہاتھ کاٹ لیا اور جب اس نے اپنا ہاتھ اس کے منہ سے کھینچا تو اس کے سامنے کے دانت گر گئے ، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اپنے دانت کی دیت مانگنے لگا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ( عجیب ماجرا ہے ) تم میں سے کوئی ایک اپنے ساتھی کے ہاتھ کو اونٹ کی طرح چبانا چاہتا ہے اور پھر دیت مانگتا ہے ، اس کی کوئی دیت نہیں ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو باطل قرار دیا “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2656]
💡 وضاحت:
۱؎: اس لئے کہ اس کا دانت اسی کے قصور سے گرا نہ وہ کاٹتا نہ دوسرا شخص اپنا ہاتھ کھینچتا، اور جب اس نے کاٹا تو وہ بے چارہ کیا کرتا آخر ہاتھ چھڑانا ضروری تھا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: سنن النسائی/القسامة 15 (4774، 4775، 4776)، (تحفة الأشراف: 11835، 4554)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/جزاء الصید 19 (1847)، الإجارة 5 (2265)، الجہاد 120 (2973)، المغازي 78 (4417)، الدیات 18 (6893)، صحیح مسلم/القسامة 4 (1673)، سنن ابی داود/الدیات 24 (4584)، مسند احمد (4/222، 223، 224) (صحیح)
سنن ابن ماجه • حدیث #2656
2654 2655 2656 2657 2658

📖 اسی باب کی مزید احادیث (Related Hadiths)

#2657 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِ...
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص نے دوسرے کے بازو کو کاٹا ، اس نے اپنا ہاتھ کھینچا ت...
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ